”ارتھی کب اٹھے گی“
”ارتھی کب اٹھے گی“چونکیے مت،مجھے بھی چار لفظوں کا یہ جملہ ننھی زبان میں سن کر جھٹکا لگا تھا،میت کی ”ارتھی“کہاں اٹھی؟ایسے لگ رہا تھا کہ ہماری غیرت،حمیت،ثقافت کا جنازہ ہی نکل گیا۔ایسا تو ہونا ہی تھا جب ہمارے ”لاڈلے“ گھر،گھر میں گھسی ہندی ثقافت کو ٹی وی چینلز پر دیکھیں گے،جب ہندو ناریوں اور سورموں کو پھیرے لیتے پائیں گے تو نکاح کا خیال کہاں آئے گا،بچے تو بچے رہے بڑوں میں بھی غیروں کا رنگ چڑھتا جا رہا ہے،ان کا فیشن،ان کی باتیں،انہی کا رسم و رواج۔ اب تو کچھ ”بگڑے“ بھائی منہ بولی بہنوں سے راکھی بندھوانے میں بھی شرم محسوس نہیں کرتے۔بالوں کی ایسی تراش خراش کرواتے ہیں کہ آپ بندے اور بکرے میں فرق ہی بھول جائیں۔ جو بڑا ذرا سمجھانے کی بات کرے تو اسے جاہل یا پرانے خیالات کا کہ کر چپ کرادیا جاتا ہے”وڈا آیا مولوی! ہم سب جانتے ہیں“ ہمارے اپنے میڈیا میں ایسے ایسے مناظر دکھائے جاتے ہیں کہ الحفیظ الامان۔ وہی ہندی اداکار،انہی کے اشتہار۔بے حیائی کا سامان گھر گھر میں موجود ہو تو کسی غیر کو گناہگار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ میڈیا پر ایسے ایسے سمارٹ چہرے لائے جا رہے ہیں، جو بظاہر دینی و دنیاوی معلوم...