Posts

”ارتھی کب اٹھے گی“

Image
  ”ارتھی کب اٹھے گی“چونکیے مت،مجھے بھی چار لفظوں کا یہ جملہ ننھی زبان میں سن کر جھٹکا لگا تھا،میت کی ”ارتھی“کہاں اٹھی؟ایسے لگ رہا تھا کہ ہماری غیرت،حمیت،ثقافت کا جنازہ ہی نکل گیا۔ایسا تو ہونا ہی تھا   جب ہمارے ”لاڈلے“ گھر،گھر میں گھسی ہندی ثقافت کو ٹی وی چینلز پر دیکھیں گے،جب ہندو ناریوں اور سورموں کو پھیرے لیتے پائیں گے تو نکاح کا خیال کہاں آئے گا،بچے تو بچے رہے بڑوں میں بھی غیروں کا رنگ چڑھتا جا رہا ہے،ان کا فیشن،ان کی باتیں،انہی کا رسم و رواج۔ اب تو کچھ ”بگڑے“ بھائی منہ بولی بہنوں سے راکھی بندھوانے میں بھی شرم محسوس نہیں کرتے۔بالوں کی ایسی تراش خراش کرواتے ہیں کہ آپ بندے اور بکرے میں فرق ہی بھول جائیں۔ جو بڑا ذرا سمجھانے کی بات کرے تو اسے جاہل یا پرانے خیالات کا کہ کر چپ کرادیا جاتا ہے”وڈا آیا مولوی! ہم سب جانتے ہیں“ ہمارے اپنے میڈیا میں ایسے ایسے مناظر دکھائے جاتے ہیں کہ الحفیظ الامان۔ وہی ہندی اداکار،انہی کے اشتہار۔بے حیائی کا سامان گھر گھر میں موجود ہو تو کسی غیر کو گناہگار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ میڈیا پر ایسے ایسے سمارٹ چہرے لائے جا رہے ہیں، جو بظاہر دینی و دنیاوی معلوم...

کسان مر رہا ہے

Image
آپ کو کیسا عجیب لگے گا جب آپ کسی کام پر سال بھر محنت کریں اور جب پھل حاصل کرنے کا وقت آئے تو کوئی اور لے جائے، پکی پکائی فصل اٹھا لی جائے،آپ کو اپنی فروخت کردہ اجناس کی رقم ہی نہ ملے یا ایسا ہوکہ آپ کی فصل پر خرچہ تو کئی گنا زیادہ ہو اور آمدن نہ ہونے کے برابر،یا کہ آپ مقروض ہوجائیں،حالانکہ آپ نے دن رات کرکے اس فصل کو اپنی اولاد کی طرح پالا ہو،ٹھٹھرتی راتوں میں سیراب کیا ہو،آگ برساتی دھوپ میں ہل چلائے ہوں،پیٹھ پر ٹینکیاں اٹھا کر سپرے کیے ہوں   کاش یہ خواب ہوتا،یہ خواب نہیں،صاحب! یہ حقیقت ہے،سندھ میں ایک ”ہاری“ پنجاب میں ایک کسان،خیبر پی کے میں ایک کاشتکار اور بلوچستان میں ایک نواب،سردار کا پسا ہوا مزارع اپنی اجناس لے کر سڑکوں پر ہے،کپاس کی فصل پر وقت،دولت اور خون پسینہ سب خرچ ہوتا ہے جب ایک کسان مارکیٹ میں لاتا ہے تو کوڑیوں کے بھاؤ فروخت ہوتی ہے،حالانکہ کپاس سے بننے والی مصنوعات کئی گنا مہنگی بیچی جاتی ہیں،اسی طرح گنا جب شوگر ملز کو فروخت کیا جاتا ہے تو قیمت نچلی سطح تک پہنچ جاتی ہے،جب کسان کے پاس کچھ نہیں رہتا تو چینی مہنگی کر دی جاتی ہے،شوگر ملیں خریدے گئے گنے کی کئی ماہ تک پیمنٹ ...

عمران خان کا خطاب کیسا تھا؟ ان کا مستقبل کیسا ہوگا؟

Image
 عمران خان نے آنے والی حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ۔امپورٹڈ حکومت کو سڑکوں پر چیلنج کرنے کا اعلان پر کردیا ،وزیر اعظم نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو قبول تو کیا ہے لیکن اس پر مایوسی کا اظہار بھی کیا ہے،عمران خان کا خطاب کیسا تھا؟ ان کا مستقبل کیسا ہوگا؟ عمران خان کے خطاب سے وسوسے اور خدشات دم توڑ گئے ہیں ،انہوں نے اپنے بیانیے کو کھول کر رکھ دیا ہے،خوش کن بات یہ ہے کہ انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو دل سے قبول کیا ہے،اختلاف  بھی کیا ہے،گویا وہ بھرپور اپوزیشن کیلئے تیار ہوگئے ہیں ۔ایک بڑے لیڈر کے طور پر بات کی ہے،ان کے لہجے میں ایک اعتماد تھا ،اس میں کوئی شک نہیں عمران خان نے اپوزیشن میں لمبی جدوجہد کی ہے،انہوں نے کرکٹ میں نام پیدا کیا،خدمت کیلئے نکلے تو ملک قوم کی خدمت کرکے دکھائی ۔ان کی حکومت پرسوال تو اٹھتے رہیں گے لیکن حقیقت ہے کہ قوم کو بھکاری بنادیا گیا ہے،ان کی کوشش ہوگی کہ جلد انتخابات ہوں ،اپوزیشن کیلئے مشکل صورتحال ہوگی ۔عمران خان اپنے بیانیے کو اچھے انداز میں پیش کرگئے تو ان کو پھر حکومت مل سکتی ہے۔ان کے بیان سے مسرت محسوس ہوئی ہے،وہ اپنی سیاست سے اوپر اٹھے ہیں،اپن...