کتے

وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی نظر میں وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار بہترین وزیر اعلیٰ ہیں، عوامی سرویز ان کی حمایت میں ہیں،لیکن اس کے باوجود وزیر اعظم حکومت کی کم ہوتی مقبولیت میں اضافے کیلئے آج جنوبی پنجاب کے طوفانی دورے پر پہنچے ، جہاں انہوں نے ایک بار وسیم اکرم پلس  کی خوب تعریفیں کیں ، فلاحی ریاست کے خدو خال بیان کئے ، خلفائے راشدین کے اقوال کے ذریعے صوبے کے عوام کو مرعوب کرنے کی  کوشش کی ۔ عین اسی لمحے وزیر اعلیٰ پنجاب کے حلقے  ڈی جی خان میں ایک گھر میں صف ماتم بچھی ہوئی تھی ۔ ایک گھر کا چراغ مدھم ہوگیا تھا ، ایک ماں کی آنکھوں کا تارہ سفید کفن اوڑھے بے سدھ پڑا تھا۔ جس کی ماں چیخ چیخ کر میر ریاست کو پکار رہی تھی ، جس کے باپ کی پتھرائیں آنکھیں وسیم اکرم پلس کی شاہی سواری کے انتظار میں تھیں کہ شاید وزیر اعلیٰ پنجاب تشریف لائیں اور ان بے نور آنکھوں کو ان کا چراغ مل جائے ۔ لیکن اس منظر سے زیادہ تکلیف دہ منظر تو گذشتہ روز دیکھا گیا۔  یہ منظر دیکھنے  سے قبل میری کمزور دل افراد سے گزارش ہے کہ وہ ٹی وی سکرین کی طرف نہ دیکھیں، آپ سے گزارش ہے کہ اپنے بچوں کے سامنے یہ تکلیف دہ مناظر نہ دیکھیں  ۔یہ تکلیف دہ مناظر دیکھ کر اس ماں کا دل چھلنی ہوگیا ، جس نے سفید کفن میں لپٹے اپنے اس نور کو سکول یونیفارم میں سکول بھیجا تھا ۔


 

 گورنمنٹ  لیب ہائیر سکینڈری سکول میں ساتویں جماعت کا طالب علم مبشر محمود باپ کے خواب اور ماں کی دعائیں لئے سکول گیا تھا ۔ وہی سکول جس کی چار دیواری زندگی کا مقصد دیتی تھی۔ جہاں تحفظ کا احساس تھا ، جس کے مرکزی دروازے پر چوکیدار موجود تھا مگر اسی تعلیمی ادارے میں آوارہ کتوں نے   کمرہ جماعت کے باہر بھنبھوڑ ڈالا۔ مبشر نے خود کو آوارہ کتوں سے بچانے  کی بھرپور کوشش کی ، اپنے کلاس فیلوز کو بلایا ، اساتذہ کو آواز دی ، چوکیدار اور سکول سٹاف کو بلاتا رہا مگر اسکی چیخیں ، اسکی بے بسی قابل ترین وزیر اعلیٰ محترم عثمان  بزادر کے مثالی حلقے میں کسی تک نہ پہنچ سکیں ، اسکی چیخیں سسکیوں میں بدل گئیں اور مبشر محمود بے ہوش ہوگیا ۔لیکن آوارہ کتوں نے  مبشر محمود کو  پھر بھی نہ چھوڑا ، معصوم مبشر کے جسم کو چیتھڑوں میں بدل دیا ۔ننھے بچے کے پھول جیسے جسم سے خون رستا رہا مگر اس کی مدد کو کوئی نہیں آیا ۔ اجلی یونیفارم میں سکول جانے والا بچہ جب خون میں لت پت گھر آیا ہوگا تو ماں پر کیا گزری ہوگی؟ باپ   کے سر پر توگویا قیامت آن پہنچی ، اسی  کیفیت کو آج میر ریاست نے اپنے شاندار خطاب میں بھی بیان کیا ، ساتھ ہی انہوں نے مشورہ دیا  کہ ہماری کارکردگی کو گوگل کرلیں۔

شیخ رشید کیا چاہتے ہیں؟

میر ریاست! آپ  کارکردگی کو گوگل کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں ۔ ہم نے بھی  وسیم اکرم پلس کی کارکردگی کا صرف ایک پہلو گوگل کیا تو علم  ہمارے سامنے عالمی ادارہ صحت کی رپورٹس ، گذشتہ تین برس کے دوران اخبارات میں شائع ہونے والی خبریں اور پنجاب حکومت کے اپنے اعداد وشمار آئے ، جن کے مطابق پنجاب میں آوارہ کتوں کا معاملہ ایک قومی مسئلہ بن چکا ہے ۔ پنجاب  اور وفاقی حکومت  کی جانب سے آوارہ کتوں کے معاملے پر سندھ حکومت کو تنقید کی جاتی رہی ہے مگر عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق  پنجاب میں آوارہ کتے بے قابو ہوچکے ہیں ۔ جہاں گذشتہ تین برس سالانہ 80 ہزار سے زائد افراد کو کتوں کے کاٹنے کے باعث ہسپتالوں کا رخ کرنا پڑتا ہے جن میں سے اکثر گلی محلوں میں پھرنے والے ان آوارہ کتوں کا شکار بنتے ہیں۔ پنجاب حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق  صوبے میں  ساڑھے چار لاکھ آوارہ کتوں کی غیر معمولی افزائش نسل  تیزی سے جاری ہے ۔ اس حوالے سے  گذشتہ برس مئی میں صوبائی حکومت نے صوبے کے 36 اضلاع میں نر اور مادہ کتوں میں تولیدی نظام غیر فعال کرنے کی مہم شروع کرنی تھی ۔  دعویٰ کیا گیا کہ دو ماہ کے دوران آوارہ کتوں کو پکڑ کر ایک ہزار تک کتوں کو ویکسین لگائی جائے گی جبکہ  حکومت نے صوبے بھر میں اس مہم کو کامیاب بنانے کے لیے 18کروڑ بھی مختص کیا ۔ لیکن اس مہم پر بھی خاطر خواہ کام نہیں کیا گیا ، حکومت کے انہی دعوؤں کے بیچ 11 جولائی 2021کو شہر لاہور میں ایک 6 سالہ بچہ آوارہ کتوں کے کاٹنے سے جاں بحق ہوا تھا ۔ اب ایک  بار پھر سکول میں بچے کے قتل کو چھپانے  کی کوششیں کی جارہی ہیں ۔

 بچے کو سکول سے ہسپتال لے جایا گیا ، ہسپتال انتظامیہ کے مطابق بچہ مردہ حالت میں لایا گیا، بچے  کی پوسٹمارٹم ہوئی اور نہ ہی واقعے کا مقدمہ درج کیا گیا۔ سوال  یہ ہے کہ مبشر محمود  کی ہلاکت کا مقدمہ کیوں نہیں درج کرایا گیا؟  جس وقت  آوارہ کتے بچے پر حملہ آور ہوئے سکول انتظامیہ کہاں تھیں ؟ اگر بچہ وقت سے پہلے سکول آیا تو چار دیواری کے اندر آوارہ کتے کیسے آگئے؟ لاش کا پوسٹمارٹم کیوں نہیں کرایا گیا؟ ضلعی انتظامیہ نے  مقدمہ کیوں نہیں درج کیا؟ لاش کو عجلت میں کیوں دفن کیا گیا؟ معاملہ سوشل میڈیا پر آنے کے بعد پنجاب حکومت نے نوٹس تو لے لیا، مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس نوٹس سے مبشر محمود واپس آجائے گا؟ بچے کے والدین کو انصاف مل پائے گا؟ یہ واقعہ کیسے پیش آیا؟اس کے محرکات کیا تھے اور والدین کا اس بارے میں مئوقف کیا ہے؟ اسی بارے میں بات  کریں گے ، ہمارے ساتھ موجود ہیں۔





یہ گلیوں کے آوارہ بے کار کتے

کہ بخشا گیا جن کو ذوق گدائی


زمانے کی پھٹکار سرمایہ ان کا

جہاں بھر کی دھتکار ان کی کمائی


نہ آرام شب کو نہ راحت سویرے

غلاظت میں گھر نالیوں میں بسیرے


جو بگڑیں تو اک دوسرے کو لڑا دو

ذرا ایک روٹی کا ٹکڑا دکھا دو


یہ ہر ایک کی ٹھوکریں کھانے والے

یہ فاقوں سے اکتا کے مر جانے والے


مظلوم مخلوق گر سر اٹھائے

تو انسان سب سرکشی بھول جائے


یہ چاہیں تو دنیا کو اپنا بنا لیں

یہ آقاؤں کی ہڈیاں تک چبا لیں


کوئی ان کو احساس ذلت دلا دے

کوئی ان کی سوئی ہوئی دم ہلا دے


Comments

Popular posts from this blog

تحریک عدم اعتماد: میچ آخری اوورز میں داخل

میریا ڈھول سپاہیا تینوں رب دیاں رکھاں

پاکستان میں’’لوٹا ‘‘کلچر کیسے عام ہوا ؟